لکھنؤ،25جنوری(ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا) اتر پردیش کی یوگی سرکار نے یوم جمہوریہ کے موقع پر اپنی کامیابیوں کی فہرست جاری کردی ہے،جس میں یوگی مدت میں ہوئے تمام انکاؤنٹربھی شامل ہیں۔
سرکاری فہرست کے مطابق، 2017 جولائی سے 2018کے دوران یوگی پولیس نے تین ہزار سے زائد انکاؤنٹرکئے تھے،جس میں تقریباََ6درجن مجرموں کو ماراگیا۔دراصل یوگی حکومت یوم جمہوریہ کے موقع پر قانون ونظام کوعوام کے سامنے ایک بڑا مسئلہ بنائے گی،جہاں حکومت کی انکاؤنٹرکی پالیسی پربھی بحث کی جائے گی۔اس سے پہلے انکاؤنٹر کی تفصیلات حکومت کی طرف سے عوامی کردی ہے۔یو پی کی حکومت کی کامیابیوں کی فہرست میں شامل اعدادوشمار کے مطابق پولیس نے وزیر اعلی یوگی ناتھ کی مدت مارچ 2017سے جولائی 2018کے دور میں 3026تصادم ہوئے۔مجموعی طور پر 78مجرموں کو قتل کیا گیا تھا،جبکہ 838مجرمین زخمی ہوئے۔
اس فہرست میں بتایا گیا تھا کہ 11981افراد نے اپنی ضمانت منسوخ کرائی اور عدالت میں سرینڈر کیا۔اس سلسلے میں چیف سکریٹری انوپ چندرا پانڈیا نے حکومت کے ذریعہ تمام ضلع مجسٹریٹوں کو حکم جاری کیا ہے۔حکومت کی کامیابیوں میں ایس ٹی ایف کے انکاؤنٹربھی شامل ہے،جس میں نو مجرموں کو قتل کیا گیا تھا جبکہ 139مجرموں کو گرفتار کیا گیا تھا،ساتھ ہی ایس ٹی ایف نے 6.5لاکھ لوگوں کے ساتھ پونجی اسکیم کے نام پر 3700کروڑ کی ٹھگی کرنے والے 3شاطر ٹھگوں کو گرفتار کیا۔اسی طرح این ایس اے ایکٹ کے تحت،غنڈہ ایکٹ کے تحت 299اور دیگر 2589مقدمات میں پولیس کارروائی کی گئی۔ان تمام معاملات میں 60کروڑ40لاکھ روپے کی غیر قانونی ملکیت بھی ضبط کی گئی،جبکہ1277زمین مافیا کے خلاف بھی کارروائی کی گئی۔
سرکاری کامیابی کی اس فہرست پر رائے دیتے ہوئے سماج وادی پارٹی کے ترجمان سنیل ساجن نے کہا کہ یوگی آدتیہ ناتھ حکومت نے صحت، تعلیم اور ریاست کے بنیادی ڈھانچے کو بہتر بنانے کے لئے کوئی کام نہیں کیا ہے،ہر جگہ فرضی انکاؤنٹر ہوئے ہیں اور ہماری پارٹی نے اس مسئلے کو پارلیمنٹ میں اٹھایا ہے۔سپریم کورٹ نے بھی ان پر سوال اٹھائے ہیں اور اگر سی بی آئی انکوائری کا حکم دیا جائے تو یو پی کے وزیر اعلی اور اعلی پولیس اہلکارمشکلات میں پڑجائیں گے۔دوسری جانب سینئر کانگریس لیڈر پرمود تیواری نے کہا کہ ریاست میں قانون و امان کی صورتحال خراب ہو رہی ہے۔ریاست میں قتل ہو رہے ہیں۔سپریم کورٹ نے قسطوں پر سوال اٹھائے ہیں۔حکومت کی کامیابی کے طور پر اس کوبتانایہ اشارہ کرتا ہے کہ اس حکومت کو دکھانے کے لئے کوئی ترقیاتی کام نہیں ہے۔